سابق انگلش کرکٹ کپتان ناصر حسین نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی پالیسیوں اور مبینہ دوہرے معیار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بنگلا دیش جیسے ممالک کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا تو عالمی کرکٹ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کو سیاست سے پاک رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ کھیل کی روح متاثر ہوتی رہے گی۔
ناصر حسین نے سوال اٹھایا کہ اگر بنگلا دیش کی جگہ بھارت کسی ایونٹ کے وینیو کی تبدیلی کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کا ردِعمل کیا ہوتا؟ کیا ایسی صورت میں بھارت کو بھی ایونٹ سے باہر کرنے کی جرات کی جاتی؟ ان کے مطابق یہی وہ بنیادی سوال ہے جو آئی سی سی کی غیر جانبداری پر انگلی اٹھاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی کرکٹ باڈی کو تمام ممالک کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کرنا ہوگا، چاہے وہ بھارت ہو، پاکستان ہو یا بنگلا دیش۔
سابق کپتان نے بنگلا دیش کے مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش نے اپنے کھلاڑی کے لیے مضبوطی سے آواز اٹھائی اور اپنے فیصلے پر قائم رہا، جو کہ ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان نے بنگلا دیش کا ساتھ دے کر درست قدم اٹھایا۔ ناصر حسین کے مطابق کسی نہ کسی کو کھڑے ہو کر یہ کہنا ہوگا کہ سیاست بہت ہوچکی، اب کرکٹ کو آگے بڑھنے دیا جائے۔
ناصر حسین نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں کرکٹ میں سیاست کا عمل دخل حد سے بڑھ چکا ہے۔ کبھی کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے اور کبھی سیاسی دباؤ کے تحت کھلاڑیوں کو باہر بٹھا دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے اچانک ایک کھلاڑی کو سیاسی دباؤ کے باعث باہر کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو کھیل کے لیے نقصان دہ ہے۔
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: پاکستانی ٹیم کی نئی جرسی کی شاندار رونمائی
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر آئی سی سی نے پاکستان اور بنگلا دیش جیسے ممالک کو مسلسل نظرانداز کیا یا ان پر غیر ضروری دباؤ ڈالا تو اس کے نتائج عالمی کرکٹ کے لیے خطرناک ہوں گے۔ ناصر حسین نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بے شمار پابندیوں، مسائل اور دباؤ کے باوجود شاندار کارکردگی دکھائی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ اور جذبہ کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں۔
آخر میں سابق انگلش کپتان نے آئی سی سی کو مشورہ دیا کہ وہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھے اور تمام رکن ممالک کے ساتھ برابری اور انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرے، تاکہ کرکٹ واقعی ایک عالمی کھیل کے طور پر ترقی کر سکے۔
