چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے کہا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا مقصد صرف بنگلا دیش کی کرکٹ عزت اور مفادات کو تحفظ دینا تھا۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ مذاکرات کے دوران پی سی بی نے کوئی ذاتی یا سیاسی شرط نہیں رکھی، اور یہ اقدام مکمل طور پر بین الاقوامی کرکٹ کے اصولوں کے تحت کیا گیا۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مقصد بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی کسی ممکنہ ناانصافی کو اجاگر کرنا اور ان کے جائز مطالبات کو ماننا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف بنگلا دیش کی فلاح اور کرکٹ کے مفادات کے لیے اٹھایا گیا اور اس میں پاکستان کی ٹیم یا پی سی بی کا کوئی ذاتی فائدہ شامل نہیں تھا۔
یہ مذاکرات پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے حوالے سے لاہور میں ہوئے تھے، جن میں آئی سی سی، پی سی بی اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے نمائندے شریک تھے۔ محسن نقوی کے مطابق مذاکرات کے دوران بنگلا دیش کے مطالبات پر مکمل عمل کیا گیا، جس سے بین الاقوامی کرکٹ کے تعلقات مستحکم ہوئے۔
پی سی بی کو پہلی بار محسن نقوی جیسامضبوط چیئرمین ہیں: بھارتی صحافی وکرانت گپتا
آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بنگلا دیش پر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا اور انہیں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دی جائے گی۔ یہ میزبانی 2028 سے 2031 کے درمیان متوقع ہے۔ اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئی سی سی نے بنگلا دیش کے موقف کو مکمل احترام دیا اور پاکستان کی مدد سے اس تنازع کو حل کیا۔
مزید برآں، سری لنکن اور بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ نے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے، جس کے بعد حکومت نے پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی اجازت دے دی۔ محسن نقوی نے کہا کہ اس فیصلے سے بین الاقوامی کرکٹ میں مثبت تاثر پیدا ہوا اور پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کھیل کی روح اور شفافیت کو برقرار رکھا۔
پی سی بی کے اقدامات کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ چھوٹے اور کمزور کرکٹ بورڈز کی حمایت کرتے ہوئے کرکٹ میں انصاف اور ایمانداری کو ترجیح دی۔
