ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران پاکستان اور بھارت کے میچ سے قبل ہینڈ شیک نہ کرنے کی بھارتی پالیسی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ اس معاملے پر نہ صرف شائقین بلکہ سابق کھلاڑی بھی اپنی رائے دے رہے ہیں، اور اب معروف بھارتی کرکٹر و کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے بھی اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ہینڈ شیک نہ کرنے کی پالیسی پر تنقید
بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہینڈ شیک نہ کرنے کی غیر رسمی پالیسی گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ بحث ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کولمبو میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچ میں بھی بھارتی ٹیم کی جانب سے یہی طرزِ عمل اپنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے سنجے منجریکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ "ہاتھ نہ ملانے جیسی حرکت احمقانہ ہے اور یہ ہمارے جیسے بڑے ملک کے شایانِ شان نہیں”۔ ان کے مطابق کھیل کا بنیادی مقصد مقابلے کے ساتھ ساتھ باہمی احترام اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو فروغ دینا ہے۔
کھیل کے جذبے اور روایات کا معاملہ
سابق بھارتی ٹیسٹ کرکٹر نے مزید کہا کہ اگر کوئی ٹیم کھیل کے اصولوں اور روایات کے مطابق میدان میں نہیں اتر سکتی تو پھر اسے کھیلنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ کرکٹ ہمیشہ سے شائستگی اور احترام کا کھیل رہا ہے، جہاں میچ کے بعد ہاتھ ملانا اور ایک دوسرے کو سراہنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
This ‘no shaking hands’ is such a silly thing that India has started. It’s unbecoming of a nation like ours. Either play properly within the spirit of the game or don’t play at all.
— Sanjay Manjrekar (@sanjaymanjrekar) February 15, 2026
ماہرین کے مطابق پاک بھارت مقابلے سیاسی اور جذباتی حساسیت رکھتے ہیں، تاہم کھیل کے میدان میں پیشہ ورانہ رویہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے ہینڈ شیک جیسے معاملات پر ردِعمل تیزی سے سامنے آتا ہے اور اسے کھیل کی روح سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
اندرون و بیرون ملک ردِعمل
اس پالیسی پر بھارت کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی تنقید کا سامنا ہے۔ کرکٹ حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے اور کھلاڑیوں کے درمیان باہمی احترام برقرار رہنا چاہیے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیسے بڑے عالمی ایونٹس میں چھوٹی روایات بھی بڑی علامتی اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں سنجے منجریکر کا بیان اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ کھیل کے عالمی معیار اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔
