پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، تاہم بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے لیے ہنگامی وفد بھیجا ہے، جو چند گھنٹوں میں لاہور پہنچنے والا ہے۔
آئی سی سی وفد اور بنگلا دیش کے صدر کی آمد
ذرائع کے مطابق آئی سی سی وفد کی قیادت ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی کر رہے ہیں، جبکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی لاہور پہنچ چکے ہیں۔ لاہور میں پہنچنے کے بعد دونوں وفود کے درمیان آئی سی سی کا اہم اجلاس ہوگا، جس میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے اثرات اور پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
وفد لاہور پہنچنے کے بعد آج ہی واپس کولمبو روانہ ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق آئی سی سی وفد ساڑھے 4 بجے کولمبو سے لاہور کے لیے روانہ ہوا۔
اجلاس کے ممکنہ ایجنڈے
اجلاس میں پاکستان کے بائیکاٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، بین الاقوامی کرکٹ کے ضوابط اور دیگر ممالک کی پوزیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کی کئی وجوہات ہیں، لیکن بنگلا دیش کے حوالے سے آئی سی سی کے بعض فیصلے نے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ گئے
پاکستان کی حکومتی موقف
حکومت پاکستان نے اس معاملے پر بنگلا دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور عالمی کرکٹ میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ آئی سی سی کے اجلاس میں ملکی مفادات کی مکمل نمائندگی ہو۔
پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے بعد آئی سی سی کا ہنگامی وفد اور بنگلا دیش کے صدر لاہور پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں گے، جبکہ اجلاس کے بعد دونوں وفود آج ہی واپس روانہ ہو جائیں گے۔ یہ اجلاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بین الاقوامی کرکٹ کے توازن اور پاکستان کے موقف کو مضبوط کرنے کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
