پاکستان میں کوچنگ کے دوران بہت زیادہ بیرونی مداخلت دیکھی: گیری کرسٹن کا انکشاف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے پاکستان میں اپنے مختصر دورِ کوچنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کے دوران باہر سے غیر معمولی مداخلت اور بیرونی دباؤ نے ان کے لیے حالات کو خاصا مشکل بنا دیا تھا۔

latest urdu news

ایک انٹرویو میں گیری کرسٹن کا کہنا تھا کہ کوچ کے لیے اس وقت مؤثر انداز میں کام کرنا دشوار ہو جاتا ہے جب باہر سے مسلسل شور اور دباؤ موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں کھلاڑیوں کے ساتھ واضح حکمت عملی ترتیب دینا اور اس پر عملدرآمد کرانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔

سابق کوچ کے مطابق ٹیم کی خراب کارکردگی پر فوری اور سخت ردعمل، تادیبی اقدامات، مجموعی ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔

گیری کرسٹن نے کہا کہ جب ٹیم توقعات پر پورا نہ اترے تو کوچ کو محدود کردینا یا اسے تبدیل کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، تاہم گیری کرسٹن کے مطابق یہ رویہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کوچ کو ذمہ داری سونپی جائے تو اسے اپنی حکمت عملی کے مطابق کام کرنے کی مکمل آزادی دی جانی چاہیے۔

انہوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ خوشگوار رہا۔ ان کے مطابق دنیا بھر کے کرکٹرز کی طرح پاکستانی کھلاڑی بھی باصلاحیت اور پیشہ ور ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنا ایک مثبت تجربہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ زبان کا فرق موجود تھا، تاہم کرکٹ ایک ایسی زبان ہے جو سب کو جوڑتی ہے اور میدان میں بہتر رابطے میں مدد دیتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter