چیک ریپبلک میں جاری چیک جونیئر اوپن اسکواش ٹورنامنٹ 2026 کے دوران پاکستان کی معروف جونیئر اسکواش کھلاڑی مہوش علی ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئیں۔ گرلز انڈر 17 ایونٹ کے سیمی فائنل میں مقابلے کے دوران وہ اپنی حریف کھلاڑی سے ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں اور فوری طور پر اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
سیمی فائنل میں پیش آنے والا واقعہ
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پراگ میں ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے جونیئر گولڈ سرکٹ کے تحت منعقدہ مقابلے کے دوران پیش آیا۔ پاکستان کی علی سسٹرز میں سب سے بڑی بہن مہوش علی سیمی فائنل میں 1-2 کی سبقت حاصل کر چکی تھیں۔ چوتھے گیم کے دوران اچانک تیز رفتار کھیل میں وہ اپنی حریف کھلاڑی سے ٹکرا گئیں، جس کے بعد وہ شدید تکلیف کے باعث کافی دیر تک کورٹ میں بے ہوش سی حالت میں پڑی رہیں۔
فوری طبی امداد اور موجودہ حالت
حادثے کے فوراً بعد میچ روک دیا گیا اور مہوش علی کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں آئی سی یو وارڈ میں داخل کیا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق مہوش علی کی حالت اب پہلے سے بہتر اور تسلی بخش ہے، تاہم وہ تاحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں۔ اہلِ خانہ نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ مہوش علی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں۔
ماہنور علی نے یو ایس ساؤتھ ایسٹ جونیئر گولڈ اسکواش سرکٹ ٹائٹل جیت لیا
والد اور کوچ کا مؤقف
مہوش علی کے والد اور کوچ عارف علی نے بتایا کہ ابتدائی لمحات تشویشناک ضرور تھے، لیکن بروقت طبی امداد کے باعث ان کی بیٹی کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہوش علی ایک مضبوط اور باہمت کھلاڑی ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ کورٹ میں واپسی کریں گی۔
علی سسٹرز کی مجموعی کارکردگی
واضح رہے کہ مہوش علی نے سیمی فائنل تک رسائی سے قبل پولینڈ کی کھلاڑی ہانا روبیل کو 0-3 سے شکست دی تھی۔ دوسری جانب پشاور سے تعلق رکھنے والی علی سسٹرز میں منجھلی بہن سحرش علی گرلز انڈر 15 ایونٹ کے سیمی فائنل میں سیڈ 2 چیک کھلاڑی جوہا ناری ہاکوا سے مقابلہ ہار گئیں۔ اب سحرش علی برانز میڈل کے لیے مقابلہ کریں گی۔
قومی کھیل کے لیے تشویش اور امید
یہ واقعہ پاکستانی اسکواش حلقوں کے لیے باعثِ تشویش ضرور ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جونیئر سطح پر اس نوعیت کے مقابلے انتہائی تیز اور سخت ہوتے ہیں۔ کھیلوں میں حفاظت کے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے، تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مستقبل میں ایسے حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پاکستانی شائقینِ کھیل مہوش علی کی جلد صحت یابی اور دوبارہ کھیل کے میدان میں واپسی کے لیے پرامید ہیں۔
