بنگلا دیش نے پاکستان کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے واضح فیصلے پر باضابطہ طور پر تشکر کا اظہار کیا ہے۔ بنگلا دیشی حکام نے اس اقدام کو اصولی، جرات مندانہ اور کھیل میں انصاف کے تقاضوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل وقت میں بنگلا دیش کے ساتھ کھڑے ہو کر دوستی اور اسپورٹس مین اسپرٹ کی مثال قائم کی ہے۔
بنگلا دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر ڈاکٹر آصف نزرل نے اپنے بیان میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حالیہ کابینہ اجلاس میں دیے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بنگلا دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر کیے جانے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاجاً بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر آصف نزرل کے مطابق یہ فیصلہ محض کرکٹ کا نہیں بلکہ اصولوں، انصاف اور برابری کی بنیاد پر کیا گیا اقدام ہے۔
ڈاکٹر آصف نزرل نے واضح طور پر کہا کہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا بنتا ہے، کیونکہ اس فیصلے نے عالمی سطح پر یہ پیغام دیا ہے کہ کھیل کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ مؤقف کہ “کھیل میں سیاست بالکل نہیں ہونی چاہیے اور ہمیں بنگلا دیش کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے” قابلِ تحسین ہے اور بنگلا دیشی عوام اس جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اور اس کی وجوہات
یاد رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اچانک نکال دیا گیا، جسے بنگلا دیش میں سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بنگلا دیشی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بھارت جانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے تمام میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست آئی سی سی سے کی۔
تاہم آئی سی سی نے اس حساس معاملے کو حل کرنے کے بجائے بنگلا دیش کو ایونٹ سے ہی باہر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔ اس فیصلے پر نہ صرف بنگلا دیش بلکہ دیگر کرکٹ حلقوں میں بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسی پس منظر میں حکومتِ پاکستان نے بنگلا دیش سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔
سیاسی اور اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس فیصلے نے آئی سی سی کے کردار، عالمی کرکٹ میں طاقت کے توازن اور چھوٹے ممالک کے ساتھ ہونے والے مبینہ امتیازی سلوک پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بنگلا دیش کا پاکستان کے حق میں تشکر اس بات کی علامت ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک میچ کا بائیکاٹ نہیں بلکہ دو ممالک کے درمیان مضبوط اسپورٹس اور سفارتی یکجہتی کا اظہار بھی ہے۔
