ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2026 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے، خصوصاً روایتی حریف کے خلاف بھاری شکست کے بعد شائقین اور ماہرین دونوں نے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کولمبو میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں پاکستان کو 61 رنز سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد ٹیم کی بیٹنگ لائن شدید دباؤ میں نظر آئی۔
مخالف ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ بیس اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 175 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 176 رنز کا ہدف دیا۔ جواب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ اوپنر صاحبزادہ فرحان بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے، جبکہ صائم ایوب صرف 6 رنز بنا سکے۔ کپتان سلمان آغا بھی 4 رنز کے بعد پویلین لوٹ گئے۔
سابق کپتان بابر اعظم سے بڑی اننگز کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم وہ بھی صرف 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم 2021 میں دبئی میں بھارت کے خلاف میچ کے بعد سے ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں کسی بھی مکمل رکن ٹیم کے خلاف ایک بھی چھکا لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مختصر دورانیے کے اس کھیل میں چھکوں اور تیز رفتار بیٹنگ کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، اس لیے ان کی یہ کارکردگی زیر بحث آ گئی ہے۔
پاکستان کی کارکردگی صرف کمزور ٹیموں کے سامنے ہی نظر آتی: راشد لطیف
میچ کے دوران سات پاکستانی کھلاڑی دہرا ہندسہ عبور کرنے میں ناکام رہے اور پوری ٹیم اٹھارہ اوورز میں 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس شکست کے ساتھ ہی مخالف ٹیم نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کی راہ مزید دشوار ہو گئی ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کو اپنی بیٹنگ حکمت عملی، ابتدائی اوورز میں جارحانہ انداز اور درمیانی ترتیب کی مضبوطی پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا، ورنہ عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
