پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی اور ٹیم کمبی نیشن پر کھل کر بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ بابر اعظم کا بگ بیش لیگ کا سفر نمایاں نہیں رہا، تاہم قومی ٹیم کے لیے ان کی پرفارمنس اب بھی قابلِ اعتماد اور مؤثر رہی ہے۔ ان کے بیانات ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کی تیاریوں کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
بابر اعظم کی کارکردگی پر کپتان کا مؤقف
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سلمان علی آغا نے کہا کہ بابر اعظم ایک تجربہ کار بیٹر ہیں اور اگرچہ بگ بیش لیگ میں وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، لیکن پاکستان کے لیے انہوں نے ہمیشہ ذمہ دارانہ اور اہم اننگز کھیلی ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کی سلیکشن صرف ایک لیگ کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ مجموعی کارکردگی اور ٹیم کی ضرورت کو مدِنظر رکھا جاتا ہے۔
سری لنکا میں میچز اور ورلڈکپ چیلنج
سلمان آغا کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں میچز کھیلنے کا پاکستان کو فائدہ ہوگا کیونکہ ٹیم کو زیادہ سفر نہیں کرنا پڑے گا، جب کہ دیگر ٹیموں کو ٹریول کی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سری لنکا کی کنڈیشنز میں زیادہ رنز بنانا آسان نہیں ہوگا، اس لیے پاکستان کو محتاط مگر مثبت کرکٹ کھیلنا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ایک بڑا اور چیلنجنگ ایونٹ ہوگا، جس میں کامیابی کے لیے صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور ٹیم ورک درکار ہوگا۔
سلیکشن پالیسی اور ٹیم کمبی نیشن
ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر عاقب جاوید نے بھی بابر اعظم کی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوچنگ اسٹاف اور کپتان دونوں سمجھتے ہیں کہ بابر ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سلیکشن کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت نہیں بلکہ خالصتاً ٹیم کی ضروریات کو دیکھ کر کی جاتی ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے پاکستان کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کا اسکواڈ
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں سلمان علی آغا کو کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ اسکواڈ میں بابر اعظم کے ساتھ ساتھ فخر زمان، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، نسیم شاہ، صائم ایوب اور دیگر نمایاں کھلاڑی شامل ہیں۔
مجموعی طور پر، ٹیم کا اعلان ایک متوازن حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں تجربے اور نوجوان ٹیلنٹ کا امتزاج نظر آتا ہے۔
