پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے منتخب نہ ہونے پر نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور گفتگو کے دوران آبدیدہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیشہ ورانہ کیریئر کے نشیب و فراز اپنی جگہ، مگر سب سے زیادہ تکلیف انہیں اپنے بیٹے کی خواہش پوری نہ کر پانے کی ہے۔
میزبان تابش ہاشمی کے سوال پر احمد شہزاد نے دل کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں کھیلتا دیکھ کر خوش بھی ہوتے ہیں، لیکن اپنے لیے دل میں اداسی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کھلاڑی کے لیے میدان سے دور رہنا آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر جب وہ خود کو اب بھی کھیل کے قابل سمجھتا ہو۔
گفتگو کے دوران احمد شہزاد نے بتایا کہ ان کا نو سالہ بیٹا انہیں دوبارہ میدان میں کھیلتے دیکھنے کا خواہشمند ہے۔ یہی بات انہیں سب سے زیادہ جذباتی کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، “میرا بیٹا میرے ساتھ سوتا ہے اور میرا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے، لیکن اب میں آپ کو اچھی طرح یاد رکھ سکوں گا۔” یہ الفاظ دہراتے ہوئے احمد شہزاد کی آواز بھر آ گئی اور وہ آبدیدہ ہو گئے۔
پی ایس ایل کی تاریخ کا بڑا سودا: ملتان کی فرنچائز 2 ارب 45 کروڑ روپے میں فروخت
انہوں نے مزید کہا کہ بطور انسان وہ شکر گزار ہیں اور زندگی سے مطمئن بھی، مگر ایک باپ کے طور پر بیٹے کی خواہش پوری نہ کر پانا ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ ان کی پہچان ہے اور وہ اب بھی واپسی کی امید رکھتے ہیں۔
احمد شہزاد کی اس جذباتی گفتگو نے مداحوں کو بھی متاثر کیا، سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے ان کے لیے نیک تمناؤں اور حمایت کا اظہار کیا۔
