زکوٰۃ کے مستحقین تک پہنچانے کے معاملے میں دینا دینے والے کے لیے دونوں صورتیں جائز ہیں، تاہم افضلیت حالات اور ضرورت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔
ایک یا متعدد افراد میں تقسیم
اسلامی فقہ کے مطابق زکوٰۃ دینے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی رقم ایک ہی مستحق فرد کو دے یا اسے متعدد مستحقین میں تقسیم کرے۔ دونوں طریقے شرعی طور پر درست ہیں اور زکوٰۃ کی ادائیگی مکمل ہوتی ہے۔
البتہ، کسی ایک مستحق کو اتنی بڑی رقم دینا کہ وہ خود صاحبِ نصاب بن جائے، بغیر ضرورت کے مکروہ ہے، حالانکہ اس سے بھی زکوٰۃ کی ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے۔
افضلیت کا تعین حالات کے لحاظ سے
افضلیت کا فیصلہ مختلف حالات اور افراد کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے:
- ایک فرد کو دینا افضل:
اگر کسی شخص کی ضرورت زیادہ ہو، اس کے اہل و عیال کے خرچے زیادہ ہوں یا وہ قرض دار ہو، اور زکوٰۃ کی پوری رقم صرف اسی شخص کی ضروریات پورا کرنے میں صرف ہو جائے، تو بہتر ہے کہ وہ فرد مکمل رقم حاصل کرے۔ اس سے اس کی فوری ضرورت پوری ہو جاتی ہے اور زیادہ اثر پڑتا ہے۔
- متعدد افراد میں تقسیم کرنا افضل:
اگر زکوٰۃ کی رقم ایک شخص کی ضرورت سے زیادہ ہو، تو بہتر ہے کہ اسے متعدد مستحقین میں تقسیم کیا جائے تاکہ زیادہ افراد کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اس طرح زکوٰۃ کی برکت زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے اور معاشرے میں فلاح و بھلائی زیادہ پھیلتی ہے۔
کیا ملازمین کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے افطاری کا انتظام کیا جا سکتا ہے؟
یعنی زکوٰۃ دینے والے کے لیے اہم یہ ہے کہ وہ رقم کے اثر کو مدنظر رکھے اور اس کا استعمال مستحقین کی اصل ضروریات پوری کرنے کے لیے کرے۔ ایک شخص کو دینا یا متعدد میں تقسیم کرنا دونوں جائز ہیں، لیکن افضلیت کا دارومدار ضرورت اور حالات پر ہے۔
یہ طریقہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زکوٰۃ کی رقم زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے اور معاشرتی فلاح میں اپنا کردار ادا کرے۔
