وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں: حکومت کا دوٹوک مؤقف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وادی تیراہ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا اور نہ ہی وہاں سے آبادی کی نقل مکانی کی وجہ کوئی سکیورٹی کارروائی ہے۔ وفاق کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور اپنی ناکامیوں کا بوجھ بلاجواز فوج اور وفاقی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

latest urdu news

اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وادی تیراہ میں برفباری کے باعث نقل مکانی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ ہر سال ہونے والا معمول ہے۔ ان کے مطابق اس نقل مکانی کو آپریشن سے جوڑنا محض ایک مفروضہ اور گمراہ کن بیانیہ ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر واقعی کوئی آپریشن ہوتا تو اس کے واضح شواہد موجود ہوتے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے متعلق تمام فیصلے صوبائی حکومت اور مقامی جرگوں کی مشاورت سے طے کیے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نقل مکانی کا فیصلہ بھی انہی مشاورتوں کا نتیجہ تھا اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے خود نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز مختص کیے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ صوبائی سطح پر طے پایا تھا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وادی تیراہ میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے تقریباً 500 افراد اپنے خاندانوں سمیت مقیم ہیں، اور ان کی موجودگی سے متعلق معاہدہ بھی صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان ہوا تھا۔ خواجہ آصف کے مطابق اب اسی معاہدے کے نتائج کو فوج یا وفاق کے کھاتے میں ڈالنا درست طرزِ عمل نہیں۔

وادی تیراہ سے نقل مکانی: وفاقی وزیر کا صوبائی حکومت سے سوال

وفاقی وزیر نے ایک اور اہم پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر بھنگ کی کاشت کی جا رہی ہے، جس سے فی ایکڑ لاکھوں روپے کی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ ان کے بقول اصل تنازع اسی غیر قانونی کاروبار کے گرد گھومتا ہے، جسے چھپانے کے لیے آپریشن اور جبری نقل مکانی کا بیانیہ گھڑا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی نے بھی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص منصوبے بنا کر فنڈز نکالے جاتے ہیں اور پھر ان رقوم کو سیاسی سرگرمیوں اور اسٹریٹ موومنٹ پر خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اور پاک فوج کا ان منصوبوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وادی تیراہ میں کسی خفیہ یا اعلانیہ آپریشن کا حصہ ہیں۔

وفاقی حکام کے مطابق وادی تیراہ کے معاملے پر حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عوام میں پھیلنے والی بے یقینی اور کنفیوژن کا خاتمہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter