وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جن معاملات کو متنازع قرار دے کر سامنے لاتی ہے، وہ سب باہمی مشاورت اور بیٹھ کر بات کرنے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سنجیدہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے تاکہ سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایک وزیراعظم کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسی واضح ہے کہ اپوزیشن کو انگیج کیا جائے اور اہم قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت اور مکالمے کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم نے حالیہ دنوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اپنی کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شفافیت اور اجتماعی فیصلوں پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے تمام اہم پیش رفت سے کابینہ کو آگاہ رکھا جاتا ہے۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے وزیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی کو ہدایت دی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر بنایا جا سکے۔
عمران خان کی اڈیالہ منتقلی کا امکان مسترد، حکومتی مؤقف واضح، طارق فضل چوہدری
انہوں نے انکشاف کیا کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے درمیان متوقع ملاقات کے پس منظر میں اہم کردار سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ خود اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کر ملاقات کریں گے، جو کہ سیاسی روایت میں ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے زور دے کر کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ذاتی دشمنی کا کوئی سوال نہیں، اختلافات صرف سیاسی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہوتا ہے، تاہم ان اختلافات کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، اپوزیشن جن معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتی ہے، ان پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور حکومت سنجیدگی سے ان مسائل کو سننے اور حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام اور معاشی بہتری کی اشد ضرورت ہے، جو صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام سیاسی قوتیں مل کر قومی مفاد میں فیصلے کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں میں مزید بہتری آئے گی اور سیاسی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی۔
