طلال چوہدری نے کہا ہے کہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلیوں کے بعد اب ہمدردی کا کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر تک تبدیل کیے جا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود سیاسی بیانیہ تبدیل نہیں ہوا بلکہ اب نئی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خان کی صحت بہتر ہے اور ان کی آنکھ کا مسئلہ بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب طبی صورتحال تسلی بخش ہے تو پھر احتجاج اور سیاسی دباؤ کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کی خواہشات کے تابع نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بریفنگ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی شریک تھے اور ڈاکٹروں نے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
عمران خان کی بینائی سے متعلق فیصلہ ڈاکٹر کریں گے، وکیل نہیں: طلال چوہدری
وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ پمز میں دی گئی طبی بریفنگ کے بعد پی ٹی آئی رہنما اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واپس گئے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال دراصل پی ٹی آئی کے اندرونی سیاسی معاملات کا نتیجہ ہے، جسے عوامی سطح پر مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن بیانات کے تبادلے سے سیاسی درجہ حرارت برقرار ہے۔ ایک طرف حکومت طبی رپورٹس اور عدالتی احکامات کا حوالہ دے رہی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن قیادت اسے سیاسی حقوق کا معاملہ قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں صورتحال کا پائیدار حل بامعنی مکالمے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں ہی پوشیدہ دکھائی دیتا ہے۔
