کراچی میں بجلی کی اضافی سبسڈی جاری نہ ہونے کے باعث اسٹیل سیکٹر کو تقریباً 150 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں صنعت شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
پیداواری لاگت میں اضافے اور مالی مشکلات کے باعث نہ صرف پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ نئی سرمایہ کاری بھی سست روی کا شکار ہے، جس سے روزگار کے مواقع خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز (PALSP) نے وزیرِ خزانہ کو ارسال کیے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی سبسڈی کا مسئلہ فوری حل نہ کیا گیا تو اس کے سنگین معاشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ خط کے مطابق پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری ملک کی سب سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والی بڑی مینوفیکچرنگ صنعتوں میں شامل ہے، مگر کراچی میں قائم کارخانوں کو حکومتی اضافی بجلی سبسڈی فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث بھاری مالی نقصان ہوا۔
پاکستان اسٹیل ملز کا جنرل مینیجر لوہا چوری کے الزام میں گرفتار
ایسوسی ایشن نے 9 فروری 2026 کو ارسال کیے گئے مراسلے میں اس معاملے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی اس تاخیر کی وجہ نہیں تھی، تاہم صنعت کاروں نے سبسڈی کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ پیداواری عمل اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا جا سکے۔
