وزیراعظم سے ملاقات میں عمران خان سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، سہیل آفریدی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان یا ان کی بہنوں کی ملاقات سے متعلق کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات مکمل طور پر صوبائی امور اور ترقیاتی معاملات تک محدود رہی اور اس میں کسی سیاسی موضوع پر گفتگو نہیں کی گئی۔

latest urdu news

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ملاقات میں قبائلی اضلاع کے دیرینہ مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 2600 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختلف وجوہات کی بنا پر رکے ہوئے تھے، تاہم وزیراعظم نے ان میں سے فوری طور پر 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے، جسے انہوں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع خاص طور پر وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں نے دہشتگردی، بدامنی اور نقل مکانی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر ان علاقوں کے لیے 4 ارب روپے کی رقم کو بہت زیادہ سمجھا جائے تو یہ ان عوام کی قربانیوں سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل فراہم کرے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ وزیراعظم سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کے اہل خانہ سے متعلق کسی قسم کا ذکر ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں نہ تو کسی سیاسی معاملے پر بات ہوئی اور نہ ہی کسی فردِ واحد سے متعلق کوئی گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق یہ ملاقات خالصتاً انتظامی اور عوامی فلاح کے امور پر مرکوز تھی۔

دہشتگردی کے حالیہ واقعات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کا نہ کوئی صوبہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک۔ یہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں اور وفاق کو مل کر حکمت عملی بنانا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ عید کے بعد وزیراعظم سے دوبارہ ملاقات متوقع ہے، جس میں دہشتگردی کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت پہلے دن سے دہشتگردی کے حوالے سے اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہی ہے اور آئندہ بھی وفاق کے سامنے حقائق رکھتی رہے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی ترقی ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ پائیدار امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter