اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے اوپن کورٹ میں جا کر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق وہ روسٹرم پر گئے، چیف جسٹس کو سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں دیا گیا۔
نجی ٹی وی Geo News سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ چونکہ ان کی چیف جسٹس سے باضابطہ ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی، اس لیے انہوں نے اوپن کورٹ کا راستہ اختیار کیا تاکہ اپنا مؤقف پیش کر سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً سوا گھنٹہ انتظار کے باوجود ان کے سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشار کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، بلکہ آئینی اور قانونی راستے اپناتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے کے بعد ہی پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرتی ہے، جو ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔
ریاستی اداروں پر الزامات کا مقدمہ: عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم
انہوں نے مزید بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعے طبی معائنے کی درخواست بھی جمع کرائی گئی تھی، تاہم ان کے بقول وہ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے احترام پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاملات آئینی دائرے میں رہتے ہوئے حل ہوں۔
دوسری جانب عدالتی ذرائع کی طرف سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپن کورٹ میں کسی بھی فریق کی جانب سے براہ راست گفتگو کا طریقہ کار مخصوص ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ معاملے کی مزید وضاحت آئندہ سماعت یا عدالتی بیان کے بعد سامنے آنے کا امکان ہے۔
