وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے نہ صرف معصوم شہریوں بلکہ سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بھی مہلک ہیں اور ریاست کی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کھلی جارحیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردانہ کارروائیاں پاکستانی قوم کے عزم کو کبھی متزلزل نہیں کر سکتیں اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
دہشتگردی پورے ملک کے لیے چیلنج
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ دہشتگردی صرف ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں کسی کمزوری یا ابہام کی گنجائش نہیں، اور ریاست و قوم ہر قیمت پر دہشتگردانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہیں۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائی
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پاکستان پوری قوت سے دہشتگردی کا مقابلہ جاری رکھے گا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کو جلد امن کا گہوارہ بنائے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دو روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گرد مارے گئے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سکیورٹی ادارے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف بڑا آپریشن مکمل، 133 دہشت گرد ہلاک
امن کی یقین دہانی
سہیل آفریدی نے عوام کو یہ یقین دلایا کہ دہشتگردانہ کارروائیاں نہ تو عوام کے حوصلے کم کر سکتی ہیں اور نہ ہی ملک کے امن کے خواب کو متاثر کر سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ملک کے ہر شہری کو محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
