وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہر کی کسی سڑک پر جلسہ کیا گیا تو حکومت سخت ایکشن لے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی نے کراچی میں جلسے کے لیے اجازت ملنے کے باوجود مزار قائد کے گیٹ پر جلسے کا اعلان کیا ہے۔
روڈ پر جلسے پر حکومت کا سخت موقف
ضیا لنجار نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ شاید کراچی کے عوام نہیں ہیں، اس لیے وہ میدان کے بجائے سڑک پر جلسہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجازت ملنے کے باوجود جلسہ گاہ چھوڑ کر روڈ شو کرنے کا اصرار محض بہانے بازی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ گراؤنڈ سے باہر کسی بھی قسم کے جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی سڑک پر جلسہ کیا گیا تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
قانون کی خلاف ورزی کے نتائج
ضیا لنجار نے مزید کہا کہ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں جلسے کا اجازت نامہ بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر روڈ پر جلسے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری پی ٹی آئی پر ہوگی اور وہ قانونی نتائج بھگتنے پر مجبور ہو گی۔
کراچی نے بانی پی ٹی آئی کو مسترد کر دیا،جلسے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے: ترجمان وفاقی حکومت
کراچی میں جلسے کی موجودہ صورتحال
واضح رہے کہ کراچی کے ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے پاکستان تحریک انصاف کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دے دی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ وہ مزار قائد کے گیٹ پر جلسہ کرے گی، جس پر سندھ حکومت نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ضیا لنجار کے مطابق پی ٹی آئی کو جہاں اجازت دی گئی ہے، اسی جگہ جلسہ کرنا چاہیے اور قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔
شہریوں کے تحفظ اور نظم و ضبط
وزیر داخلہ سندھ نے یہ بھی واضح کیا کہ شہر میں امن و امان اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اس تناظر میں حکومت کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو عوامی سڑکوں پر خلل ڈالے یا ٹکراؤ کا سبب بنے۔ اس اعلان کا مقصد عوام اور سیاسی جماعتوں کو قانون کی پاسداری کی یاد دہانی کروانا اور کراچی میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔
