شیریں مزاری کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے جیل میں ملاقات کی اجازت

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو اپنی بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو انسانی ہمدردی اور قانونی حقوق کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

تفصیلات کے مطابق شیریں مزاری متنازع ٹوئٹ کیس میں گرفتار اپنی بیٹی ایمان مزاری اور داماد ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچیں۔ انہوں نے عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل قوانین کے تحت قیدیوں کو وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق حاصل ہے، تاہم اس کے باوجود انہیں گزشتہ روز طے شدہ ملاقات کے دن بیٹی اور داماد سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ جیل حکام کا رویہ غیر قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ شیریں مزاری نے مؤقف اپنایا کہ نہ صرف ملاقات سے روکا گیا بلکہ قیدیوں کو دی جانے والی سہولیات بھی قانون کے مطابق فراہم نہیں کی جا رہیں، جس پر عدالتی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران شیریں مزاری کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازع مقدمے میں سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے باوجود ان کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔ وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ دونوں قیدیوں کو جیل میں بہتر کلاس میں رکھا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں پر اسد قیصر کا شدید ردعمل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شیریں مزاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر بیٹی اور داماد سے ملاقات کی اجازت دے دی۔ عدالتی حکم کے بعد شیریں مزاری اڈیالہ جیل روانہ ہو گئیں، جہاں ان کی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات متوقع ہے۔

یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو متنازع ٹوئٹ کیس میں عدالت کی جانب سے 17، 17 سال قید اور کروڑوں روپے جرمانے کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی عدالتی اور جیل نظام پر سوالات اٹھائے تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر شہری کو اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق حاصل ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter