عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ، شیخ رشید احمد نے انسانی اور مذہبی بنیادوں پر عمرہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب جانے کی درخواست عدالت میں دائر کر دی ہے۔ یہ اقدام ان کے مذہبی عقائد اور عبادتی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
درخواست کی تفصیلات
شیخ رشید احمد کے وکیل، سردار شہباز ایڈووکیٹ نے یہ درخواست انسداد دہشت گردی عدالت، راولپنڈی میں جمع کرائی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انہیں مقررہ مدت کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کی زیارت کر سکیں اور عمرہ ادا کر سکیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید احمد باقاعدگی سے اپنے مقدمات میں عدالت پیش ہوتے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی ضمانت یا قانونی مراعات کا غلط استعمال نہیں کیا۔ علاوہ ازیں، درخواست میں یقین دہانی کرائی گئی کہ عمرہ مکمل ہونے کے بعد مقررہ مدت کے اندر وطن واپس آئیں گے۔
عدالت سے استدعا
درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ انسانی اور مذہبی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ درخواست اس پس منظر میں دائر کی گئی ہے کہ شیخ رشید احمد نے ہمیشہ عدالت کے قوانین کی پابندی کی ہے اور کسی بھی قانونی پیچیدگی یا ضمانت کے غلط استعمال میں ملوث نہیں رہے۔
کوشش کریں اس ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ ہو:شیخ رشید
پس منظر
یہ درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب شیخ رشید احمد متعدد مقدمات میں قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے بیرون ملک جانے پر عارضی پابندیاں عائد ہیں۔ اس قدم کے ذریعے ان کا مقصد نہ صرف مذہبی فریضہ ادا کرنا ہے بلکہ قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو بھی نبھانا ہے۔
شیخ رشید احمد کی یہ درخواست انسانی اور مذہبی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے اور عدالت سے یہ توقع ظاہر کرتی ہے کہ مذہبی وجوہات کی بنیاد پر انہیں سعودی عرب جانے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ عوام اور قانونی حلقوں میں مذہبی حقوق اور قانونی پابندیوں کے توازن پر بھی بحث کا محور بن سکتا ہے۔
