سابق وزیر داخلہ اور عوامی رہنما شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کو ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات کا اظہار راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
شیخ رشید نے کہا کہ معاشرتی اور اقتصادی ناہمواری کے باعث چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد خاص طور پر ریڑھی والے اور چھابڑی فروش مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “ریڑھی والوں اور چھابڑی والوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، پیرا والے اور دیگر لوگ ان کا سارا سامان الٹ دیتے ہیں۔ یہ ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے اور ان پر رحم ہونا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صرف گاڑی والوں اور بڑے کاروباری اداروں کو سہولت نہ دے بلکہ چھوٹے کاروبار کرنے والے شہریوں کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔ شیخ رشید نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریڑھی والوں اور چھابڑی والوں کے ساتھ ہمدردی اور انصاف کے ساتھ پیش آئیں۔
اس موقع پر انہوں نے ذاتی طور پر بھی امید ظاہر کی کہ ان کا کیس عدالتی سطح پر کامیاب ہوگا اور کہا کہ وہ جلد عمرے پر جائیں گے۔ شیخ رشید کے مطابق ملک میں موجود اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور روزگار کی کمی کے باعث عام لوگ شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طبقے کو زندگی گزارنے کے برابر مواقع فراہم کرے۔
شیخ رشید نے زور دیا کہ چھوٹے کاروباری افراد معاشرتی اور اقتصادی طور پر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے تحفظ اور امداد کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت حقیقی معنوں میں عوام دوست ہے تو اسے چھوٹے کاروبار کرنے والے شہریوں کو بھی سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ اپنا روزگار کما سکیں۔
انہوں نے عوام اور حکومتی حکام سے اپیل کی کہ ملک میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں، مہنگائی پر قابو پایا جائے اور ہر شہری کو بنیادی ضرورتیں میسر آئیں تاکہ معاشرتی سکون اور اقتصادی استحکام قائم ہو۔
