شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے اہم اجلاس میں شرکت کی غرض سے امریکا پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ سفارتی اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وہ عالمی رہنماؤں کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال خصوصاً غزہ میں امن کے قیام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیراعظم کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی تھی۔ افتتاحی اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوگا، جس میں مختلف ممالک کے نمائندے اور عالمی شخصیات شریک ہوں گی۔ اجلاس کا مقصد غزہ کی موجودہ صورتحال، انسانی بحران اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات پر غور کرنا ہے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے اور اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پاکستانی وفد کی موجودگی کو سفارتی سطح پر اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان مسلسل فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں فوری جنگ بندی کا حامی رہا ہے۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کی کوشش ہے، احسن اقبال
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی قیادت اور دیگر شریک عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، معاشی تعاون اور دیگر عالمی امور زیر بحث آئیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے قیام کے دوران مختلف سفارتی اور پالیسی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
وزیراعظم 20 فروری تک امریکا میں قیام کریں گے، جس کے بعد وہ وطن واپس روانہ ہوں گے۔ اس دورے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔
