سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے ایم کیو ایم رہنماؤں کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے دو وزراء کی سندھ حکومت کے خلاف مبینہ سازشوں پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزراء کی سرگرمیاں سیاسی طور پر تشویش کا باعث ہیں اور وفاقی حکومت وضاحت کرے کہ آیا یہ بیانات اس کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں یا نہیں۔
پریس کانفرنس پر ردعمل
شرجیل میمن نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت تھی۔ ان کے مطابق گورنر ہاؤس کو کسی سیاسی محاذ آرائی یا صوبائی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے، کیونکہ ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں، جو اس وقت دانشمندی نہیں ہوگی۔
سندھ حکومت کی نیت ٹھیک، مگر کچھ کمی رہ گئی: شرجیل میمن
ایم کیو ایم کے مؤقف کی جھلک
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی اور پیپلز پارٹی نے اسے خوف کے سائے میں منظور کیا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک صوبہ ایسا کام کر رہا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہو۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کی موجودگی میں "سندھو دیش” کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ انہوں نے آئین کے مختلف آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ:
- آرٹیکل 239: نئے صوبوں کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے۔
- آرٹیکل 140 اے: بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا لازم ہے، تاہم پیپلز پارٹی اپنے میئر کو مکمل اختیارات دینے پر تیار نہیں۔
- آرٹیکل 48 شق 6: ریفرنڈم کی اجازت دیتا ہے، اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہ ہوا تو ایم کیو ایم دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرے گی۔
شرجیل میمن کا مؤقف ہے کہ وفاقی وزراء کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف بیانات اور سرگرمیاں سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرے تاکہ صوبے اور وفاق کے تعلقات میں عدم توازن پیدا نہ ہو اور ملکی سیاسی و معاشی استحکام کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
