اسلام آباد میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے رمضان المبارک کے دوران سحر اور افطار کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد روزہ داروں کو بنیادی سہولت فراہم کرنا اور عبادات کے اہم اوقات میں کسی قسم کی دشواری سے بچانا ہے۔
سحر و افطار میں لوڈشیڈنگ مکمل بند رکھنے کی ہدایت
وزیر توانائی نے متعلقہ حکام اور پاور ڈویژن پاکستان کو ہدایت دی ہے کہ سحر اور افطار کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے خاص طور پر ان علاقوں کا ذکر کیا جہاں لائن لاسز یا بجلی چوری کے باعث زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، اور وہاں بھی ان اوقات میں بجلی بند نہ کرنے کی تاکید کی۔
حکام کے مطابق لوڈ مینجمنٹ مکمل طور پر ختم نہیں کی جائے گی بلکہ اسے سحر اور افطار کے علاوہ اوقات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ بجلی کے نظام پر دباؤ بھی برقرار رہے اور صارفین کو ریلیف بھی مل سکے۔
گیس فراہمی کا شیڈول بھی جاری
دوسری جانب سرکاری گیس کمپنیوں، جن میں سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز شامل ہیں، نے رمضان کے دوران گیس فراہمی کا شیڈول جاری کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق صبح تقریباً 3 بجے سے رات 10:30 بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی برقرار رکھی جائے گی تاکہ شہری سحری اور افطاری کی تیاری باآسانی کر سکیں۔
رمضان المبارک کی پہلی تراویح: مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے روح پرور مناظر
عوامی سہولت اور توانائی نظام کا توازن
ماہرین کے مطابق رمضان میں بجلی اور گیس کی طلب معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ گھریلو استعمال میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کے لیے یہ ایک چیلنج ہوتا ہے کہ توانائی کے محدود وسائل کو منظم انداز میں تقسیم کیا جائے۔ اسی لیے حکام نے لوڈ مینجمنٹ کو مکمل ختم کرنے کے بجائے مخصوص اوقات میں منتقل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
رمضان میں حکومتی اقدامات کی اہمیت
ہر سال رمضان المبارک میں توانائی کی فراہمی ایک اہم عوامی مسئلہ بن جاتی ہے۔ سحر اور افطار کے اوقات میں بلا تعطل بجلی و گیس فراہم کرنے کے حکومتی فیصلے کو عوامی حلقوں میں مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف روزہ داروں کو سہولت ملتی ہے بلکہ عبادات اور گھریلو امور بھی آسانی سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔
یوں حکومت کی جانب سے کیے گئے یہ اقدامات رمضان کے بابرکت مہینے میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے اور توانائی کے نظام کو متوازن رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
