سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں ایک سعودی کمپنی کی جانب سے سینکڑوں پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اجلاس چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب سے بہتر اور منصفانہ رویے کی توقع ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اے بی وی راک نامی سعودی کمپنی نے مبینہ طور پر 400 پاکستانی شہریوں کو گزشتہ ایک سال سے تنخواہیں ادا نہیں کیں اور ان کے پاسپورٹ بھی ضبط کر رکھے ہیں، جس کے باعث یہ افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ پاکستانی کارکن عملی طور پر یرغمال بنے ہوئے ہیں اور انہیں وطن واپسی یا ملازمت چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس سنگین معاملے پر سینیٹ کمیٹی نے سیکریٹری دفاع کو ہدایت کی کہ وہ معاملے کی نوعیت کا تفصیلی جائزہ لے کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔
اجلاس میں چترال میں پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن کی معطلی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ ایڈیشنل سیکریٹری وزارت دفاع نے بتایا کہ خسارے کے باعث چترال کے لیے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن معطل کیا گیا تھا، تاہم نجکاری کے بعد امید ہے کہ یہ سروس دوبارہ بحال ہو جائے گی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ چترال میں سیاحت کے فروغ سے فضائی آپریشن کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے، جس کے لیے وزارت دفاع اور سیاحت کے حکام کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاحت میں اضافے سے پی آئی اے کے آپریشنز کو بھی تقویت ملے گی۔
اس کے علاوہ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے شہریوں کے لیے چارٹر ہیلی کاپٹر سروس فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں ہیلی پورٹس کے قیام پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
