اسلام آباد میں گزشتہ سال قتل ہونے والی ٹک ٹاکر Sana Yousaf کی والدہ انصاف نہ ملنے پر آبدیدہ ہو گئیں۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کیا۔
ثناء یوسف کی والدہ نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتیں اور اس غم میں کئی بار خودکشی کی کوشش بھی کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں روز جیتی بھی ہوں اور مرتی بھی ہوں”، کیونکہ بیٹی کی یاد ہر لمحہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کو تقریباً ایک سال ہونے کو ہے، مگر اب تک انصاف نہیں مل سکا۔ ان کے مطابق ثناء ایک بہادر لڑکی تھی اور اس کا واحد “قصور” یہ تھا کہ اس نے ملزم سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔
17 سالہ انفلوئنسر ثناء یوسف کے قاتل نے اعتراف جرم کرلیا
اس کیس میں نامزد ملزم Umar Hayat عرف کاکا کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انصاف میں تاخیر ناقابل برداشت ہے۔
ثناء یوسف کی والدہ نے مطالبہ کیا کہ ملزم کو سخت سزا دی جائے تاکہ نہ صرف ان کی بیٹی کو انصاف مل سکے بلکہ دیگر لڑکیوں کیلئے بھی ایک مثال قائم ہو اور انہیں یقین ہو کہ قانون ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
