رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: 6 افراد جاں بحق، 30 زخمی، ریسکیو آپریشن مکمل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی تمام 15 بوگیاں پٹری سے اترنے کے حادثے میں 6 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام نے امدادی کارروائیاں مکمل کرلی ہیں، تاہم ڈیڑھ سالہ بچی کی تلاش جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر ریلوے حنیف عباسی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

latest urdu news

ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ حادثے کے نتیجے میں متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ بوگی سے ایک اور لاش نکالے جانے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی، جبکہ 30 سے زائد مسافر زخمی ہوئے ہیں۔ تمام لاشوں اور زخمیوں کو نشتر اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

رحمان بابا ایکسپریس کا حادثہ کیسے پیش آیا؟

کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کو ملتان میں شیر شاہ پل کے قریب حادثہ پیش آیا، جہاں ٹرین کی تمام 15 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

ایک مسافر کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ مسافر نے یہ بھی بتایا کہ روہڑی کے قریب ٹرین کی نویں بوگی کے نٹ بولٹ درست کیے گئے تھے۔

دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ٹرین کی رفتار زیادہ تھی، جس کے باعث بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں۔ تاہم، حادثے کی اصل وجہ تاحال باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی اور ریلوے حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ریسکیو آپریشن مکمل، ڈیڑھ سالہ بچی کی تلاش جاری

ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں نے متاثرہ بوگیوں سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ایک ڈیڑھ سالہ بچی لاپتا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔ بچی کی تلاش کے لیے متعلقہ حکام کوششیں کررہے ہیں۔

حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 30 سے زائد بتائی گئی ہے۔

سرگودھا میں افسوسناک حادثہ، پولیس موبائل ٹرین سے ٹکرا گئی، دو جوان شہید

حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع

ڈی ایس ریلوے کے مطابق حادثے کی وجوہات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کام کررہی ہے اور جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

ڈی ایس ریلوے نے بتایا کہ حادثے کے باعث متاثر ہونے والے ڈاؤن ٹریک کو 3 سے 4 گھنٹے میں بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو ریلوے اسٹیشن پہنچانے کے لیے متبادل کوچ فراہم کی گئی ہے تاکہ انہیں اپنی منزل کی جانب روانگی میں سہولت دی جاسکے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا حادثے کا نوٹس

وزیراعظم شہباز شریف نے رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حادثے میں زخمی ہونے والے مسافروں سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو متاثرہ مسافروں کی مدد کے لیے ضروری اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی کی معاوضے کی یقین دہانی

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے زخمی مسافروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ جاں بحق ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر ریلوے کے مطابق حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ریلوے کی انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

حادثے کی حتمی وجوہات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔ فی الحال حکام کی توجہ لاپتا بچی کی تلاش، زخمیوں کے علاج اور ریلوے ٹریک کی بحالی پر مرکوز ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں