پہلی ششماہی میں پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملک کی مالی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ وصولی سامنے آئی ہے، جس نے حکومتی محصولات اور توانائی سے متعلق مالی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

latest urdu news

پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ سطح

سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 822 ارب 93 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جو کسی بھی مالی سال کی پہلی ششماہی میں سب سے زیادہ رقم ہے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے، یعنی جولائی تا دسمبر 2024، کے دوران 549 ارب 41 کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے۔

یوں سالانہ بنیادوں پر پیٹرولیم لیوی کی وصولی میں 273 ارب 51 کروڑ روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے ماہرین توانائی قیمتوں اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

لیوی میں اضافہ اور حکومتی فیصلے

وفاقی حکومت نے حالیہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں بتدریج اضافہ کیا۔ گزشتہ ماہ پیٹرول پر لیوی میں 4 روپے 65 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ شرح 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 80 پیسے اضافے کے بعد لیوی 76 روپے 21 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ لیوی میں اضافے کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا اور محصولات میں استحکام لانا ہے، جبکہ ناقدین اسے مہنگائی میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیتے ہیں۔

رواں مالی سال میں پیٹرولیم لیوی سے ریکارڈ آمدن، نان ٹیکس ریونیو میں بڑی بہتری

کاربن لیوی سے اضافی آمدن

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں حکومت نے کاربن لیوی کی مد میں بھی 25 ارب 48 کروڑ روپے وصول کیے۔ یہ رقم پیٹرولیم لیوی سے الگ شمار کی جاتی ہے اور ماحولیاتی پالیسیوں کے تحت توانائی کے استعمال کو منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی بڑی رقم حکومت کے لیے مالی وسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے، تاہم اس کے اثرات عوامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کی صورت میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس لیے اس پالیسی کے معاشی اثرات پر مسلسل بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر پہلی ششماہی میں لیوی کی ریکارڈ وصولی حکومتی مالی حکمت عملی اور توانائی پالیسیوں کا اہم پہلو بن کر سامنے آئی ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں معیشت اور عوامی اخراجات دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter