راولپنڈی کی 163 ہائی رائز عمارتوں کے فائر سیفٹی معائنے میں انکشاف ہوا ہے کہ صرف ایک عمارت کو محفوظ قرار دیا گیا ہے، جبکہ باقی تمام عمارتیں فائر سیفٹی کے بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق 151 عمارتوں میں نہ تو ہنگامی راستے موجود ہیں، نہ ہی دھویں کے اخراج کا خودکار نظام یا دیگر ضروری حفاظتی آلات نصب ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے صرف ایک ہوٹل کی عمارت کو مکمل محفوظ قرار دیا ہے، جس میں فائر الارم، ایمرجنسی ایکزٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔ باقی عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر کے انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 28 فروری تک ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کریں۔
ڈی جی آر ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ 28 فروری کے بعد وہ تمام عمارتیں جو فائر سیفٹی کے معیار پر پوری نہیں اتریں گی، انہیں قانونی کارروائی کے تحت سیل کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کے حادثات سے بچاؤ کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
ریسکیو اہلکاروں نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ ان عمارتوں میں محتاط رہیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مقررہ ایگزٹ راستوں کی نشاندہی کریں۔ شہر میں بڑھتی ہوئی ہائی رائز عمارتوں کے ساتھ فائر سیفٹی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر مزید نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، کراچی میں بھی 200 عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹس موجود نہیں ہیں، جس سے شہریوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کی عدم موجودگی مستقبل میں سنگین حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
