لاہور میں اعلیٰ سطحی انتظامی تبدیلی کے تحت انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ سینئر پولیس افسر راؤ عبدالکریم کو صوبے کا نیا آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ پولیس اور انتظامی حلقوں میں اس تبدیلی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور کی جگہ راؤ عبدالکریم کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو پولیس سروس میں ایک تجربہ کار افسر سمجھے جاتے ہیں۔ راؤ عبدالکریم اس سے قبل بھی مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں فیلڈ اور انتظامی امور کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس اصلاحات اور گورننس کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عثمان انور کو جلد ایک نئی اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں ڈی جی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) تعینات کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اگر یہ تعیناتی عمل میں آتی ہے تو ڈاکٹر عثمان انور وفاقی سطح پر ایک کلیدی ادارے کی قیادت سنبھالیں گے۔
ڈاکٹر عثمان انور کو جنوری 2023 میں آئی جی پنجاب مقرر کیا گیا تھا۔ اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہوں نے پولیس نظام میں بہتری، جرائم کی روک تھام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ دی۔ ان کے دور میں پنجاب پولیس نے مختلف آپریشنز کیے، تاہم امن و امان، سیاسی دباؤ اور عوامی شکایات جیسے مسائل بھی زیر بحث رہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے ان کی کارکردگی کو سراہا گیا، جبکہ بعض مواقع پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
نئے آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کے لیے سب سے بڑا چیلنج صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا، جرائم پر مؤثر قابو پانا اور پولیس فورس کے نظم و ضبط کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ پولیس اصلاحات، عوامی اعتماد کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
پولیس اور سیاسی مبصرین کے مطابق آئی جی پنجاب کی تبدیلی ہمیشہ ایک اہم معاملہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ عہدہ صوبے کی سکیورٹی اور داخلی استحکام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ راؤ عبدالکریم کی تقرری سے توقع کی جا رہی ہے کہ پنجاب پولیس میں پالیسی اور انتظامی سطح پر نئی سمت متعین ہوگی، جبکہ آنے والے دنوں میں ان کی کارکردگی پر سب کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
