پنجاب میں سیلاب کی سنگین صورتحال: دریاؤں میں غیر معمولی طغیانی، قصور شہر کو خطرہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب کے بڑے دریاؤں میں اس وقت غیر معمولی سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جس کا سبب بھارت کی جانب سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑا جانا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے، جبکہ حکام کو کئی اضلاع میں ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

latest urdu news

دریائے ستلج میں شدید سیلاب: قصور سب سے زیادہ متاثر

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ ریلے کو 1955 کے بعد سب سے بڑا سیلابی ریلا قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، بھارت میں ایک بند ٹوٹنے کے باعث بڑی مقدار میں پانی قصور کی طرف آیا، اور قصور شہر کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انتظامیہ نے تلوار پوسٹ اور اردگرد کے دیہات خالی کرانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔

دریائے ستلج اور سندھ میں سیلابی صورتحال، بستیاں زیرِ آب

دریاؤں کی صورتحال

  • دریائے ستلج: گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ کم ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک رہ گیا ہے (پہلے 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تھا)
  • ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اب بھی خطرہ موجود
  • دریائے راوی: ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو 1 لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک پہنچ چکا ہے، ہیڈ سدھنائی پر بھی پانی میں اضافہ، جبکہ شاہدرہ (لاہور) اور جسڑ پر معمولی کمی
  • دریائے چناب: ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے

پی ڈی ایم اے نے تنبیہ جاری کی ہے کہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے کے دوران اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے اضلاع میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ لاہور فی الحال محفوظ ہے، تاہم نشیبی علاقوں میں نگرانی جاری ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان کو بڑی حد تک روکا جا سکا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter