وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) میں اینکرز کی تمام تعیناتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی گئی ہیں اور اس ضمن میں کسی قسم کی سفارش یا دباؤ کو برداشت نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اینکرز کی بھرتی کے معاملے میں زیرو ٹالرینس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر ندیم عباس کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر اطلاعات نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران پی ٹی وی کی مالی، انتظامی صورتحال، انسانی وسائل اور ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اطلاعات نے اجلاس کو بتایا کہ پی ٹی وی کے تمام ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سمیت واجبات ادا کیے جا چکے ہیں اور اس وقت ادارے پر کسی قسم کا کوئی بقایا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں سے پی ٹی وی فیس کے خاتمے کے بعد یہ تاثر دینا درست نہیں کہ ادارہ نہیں چل سکے گا، وزارت کے پاس پی ٹی وی کو چلانے کے لیے ضروری فنڈز موجود ہیں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے اینکرز کی بھرتیوں کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اسکرین پر موجود تمام اینکرز میرٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اینکر کو شامل کیا گیا ہے تو اس کے لیے مسابقتی تنخواہ دی جاتی ہے اور میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات نے پی ٹی وی اسپورٹس چینل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ چینل بہتر انداز میں چل رہا ہے اور اشتہارات بھی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معروف اسپورٹس جرنلسٹ عالیہ رشید کو پی ٹی وی اسپورٹس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو اس شعبے میں ایک معتبر نام ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی وی کی تاریخ میں پہلی بار ڈائریکٹر ہیومن ریسورس تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ملازمین کا ریکارڈ آٹومیشن کے ذریعے محفوظ کر لیا گیا ہے، جس سے ملازمین کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب ہو جاتی ہیں، جبکہ ماضی میں اس نوعیت کا مربوط ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے پی ٹی وی میں جاری ادارہ جاتی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
