ریاست سے محاذ آرائی جاری رہی تو پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان ہوگا، رانا ثنا اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک نہ کی تو اس کے منفی اثرات نہ صرف ان کی جماعت بلکہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر بھی مرتب ہوں گے۔

latest urdu news

اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش سنجیدگی کے ساتھ کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے یہ دعوت اسٹیبلشمنٹ اور اپنی قیادت کو اعتماد میں لے کر ہی دی ہے، تاکہ سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھایا جا سکے۔

رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی کے سابقہ طرزِ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی عمران خان نے مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے ہمیشہ محاذ آرائی کو ترجیح دی، جس کے باعث سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا گیا۔

دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے نزدیک مذاکرات سے متعلق بیانات فی الحال محض اخباری سرخیوں تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عملی اور سنجیدہ مذاکرات کے حوالے سے تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

پانچ بڑوں کی بات پر مذاکرات ممکن نہیں، بیرسٹر گوہر

خواجہ آصف نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو مذاکراتی عمل کے لیے کسی شخصیت پر اعتراض نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جس بھی فرد کو نامزد کرے گی، حکومت اسے قبول کرے گی، خواہ وہ محمود خان اچکزئی ہوں یا کوئی اور سیاسی رہنما۔

وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان سخت جملوں اور کشیدگی کا تاثر ملتا ہے، تاہم بند کمرہ اجلاسوں اور ملاقاتوں میں صورتحال اتنی تلخ نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق پارلیمانی سیاست میں اختلافِ رائے ایک معمول کا عمل ہے، جسے بات چیت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی رہنماؤں کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سیاسی استحکام کے لیے مذاکرات کو ضروری سمجھتی ہے، تاہم پی ٹی آئی کے رویے کو اس عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter