وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے، لیکن پی ٹی آئی کی غیر واضح پالیسیوں اور مختلف زبانوں کی وجہ سے اعتماد کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی چار سے پانچ زبانیں بولتی ہے، کبھی فرانسیسی، کبھی انگریزی، پنجابی یا اردو میں بات کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ غیر یقینی رویہ مذاکرات کو مشکل بنا رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا، "ہمیں بتائیں ہم ان کی کس زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخوا حکومت الگ، اسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔”
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ باہربیٹھ کر جو لوگ گالم گلوچ کرتے ہیں، ان کی زبان بندی سب سے پہلے ضروری ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ یہ لوگ پاکستان کے خلاف باقاعدہ حکمت عملی کے تحت بیرونی اثرات میں آ کر عوام کو گالیاں دے رہے ہیں۔
عمران خان اصولوں کے نہیں، مفاد کی سیاست کرتے ہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے بیک ٹریک کرنے اور دو نمبری کرنے کے رویے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بدنیتی ختم نہیں ہوئی اور یہ تمام معاملات ایک تاش کے کھیل کی طرح چل رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی کی نیت مذاکرات کی ہو تو نتائج نکل سکتے ہیں، لیکن فی الحال ایسا دکھائی نہیں دیتا۔
وزیر دفاع نے اپوزیشن قیادت کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا اور محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف انہیں اختلاف کرنے کا حق دیتے ہیں اور شہباز شریف کی قیادت میں سیاست میں کھلا پن اور رول ماڈل کا ماحول موجود ہے۔
