پی ٹی آئی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اختلافات موجود ہیں، اسپیکر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

latest urdu news

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے کئی ارکان نے ان سے براہِ راست رابطہ کیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ وہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر قبول نہیں کرتے۔

قومی اسمبلی میں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے بتایا کہ اپوزیشن کی جانب سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم اگر اپوزیشن باضابطہ طور پر ان کے پاس آئے تو وہ اس معاملے پر حکومت سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور اسپیکر وہ سہولت کار کا کردار ادا کریں گے، مگر اب تک مذاکرات کے لیے اپوزیشن کی جانب سے کوئی رسمی رابطہ نہیں کیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر انہیں کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے اس حوالے سے تمام اختیارات انہیں دے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بڑوں سے مشاورت اور رہنمائی لینا ضروری ہوتا ہے، تاہم تمام فیصلے آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیے جائیں گے۔

سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر گوہر کے بیان کیپھر تردید کر دی

ایاز صادق نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی جیسے اہم معاملے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی پٹیشن سے متعلق دستاویزات کی فراہمی کے لیے چار خطوط لکھے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے باضابطہ عمل کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر محمود خان اچکزئی انہیں بطور اسپیکر قبول نہیں کرتے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی انہیں قبول نہیں کرتا تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ ان کا دل بہت بڑا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے اپوزیشن ارکان کے دستخطوں کی تصدیق لازمی ہوگی اور یہ عمل زیادہ وقت طلب نہیں ہونا چاہیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے آخر میں کہا کہ وہ مذاکرات صرف اور صرف اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہی کروا سکتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کے باہر کوئی اور فریق مذاکرات میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے براہِ راست حکومت سے رابطہ کرنا ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter