چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے دوسرے طبی معائنے سے متعلق انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے تاریخ کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم یہ معلوم نہیں تھا کہ رات کے وقت اس انداز میں طبی معائنہ کیا جائے گا۔
اڈیالہ جیل کے قریب ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ گزشتہ رات انہیں اطلاع دی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ مکمل ہو چکا ہے اور بعد ازاں انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اطلاع دینے پر وہ شکر گزار ہیں، تاہم علاج فیملی اور ذاتی معالجین کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج اور ملاقات میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کارکنان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آواز ضرور اٹھائیں مگر زبان نہ چلائیں، تمام فریقین کو ایک دوسرے کا لحاظ کرنا چاہیے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ علیمہ خان نے کبھی ان سے استعفیٰ دینے یا خود پارٹی چیئرپرسن بننے کا نہیں کہا۔
بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے بعد اطلاع، بیرسٹر گوہر کا بیان
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ان کا ون پوائنٹ ایجنڈا دہشت گردی کا خاتمہ ہے اور دہشت گردوں کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوں، انہیں ختم کرنا پاکستان کا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کوئی غیرقانونی یا غیرآئینی قدم نہیں اٹھائے گی، وہ سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، نہ کہ مسلح جدوجہد یا ملیشیا بنانے پر۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر کسی فورس کے قیام سے متعلق کوئی تجویز زیر غور آئی تو اس کے خدوخال پر پارٹی میں مشاورت ہوگی اور ہر اقدام آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں، تاہم دیگر فریقین اس میں دلچسپی نہیں لے رہے۔
