وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان سے راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جسے سیاسی حلقے 8 برسوں میں ایک "بریک تھرو” قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ پر چوہدری نثار کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی۔ یہ دونوں کے درمیان 2016 کے بعد دوسری باضابطہ ملاقات تھی۔ اس سے قبل شہباز شریف 2023 میں تعزیت کے لیے چوہدری نثار کے گھر گئے تھے، تاہم اسے سیاسی نہیں، غیر رسمی ملاقات قرار دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چوہدری صاحب آپ تو ہمیں بھول ہی گئے۔ اس پر چوہدری نثار نے جواب دیا نہیں نہیں میاں صاحب، بس طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔
چوہدری نثار: خاموشی کے بعد متحرک سیاست کی واپسی؟
چوہدری نثار علی خان نے 2018 میں (ن) لیگ سے راستے جدا کر لیے تھے، اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا۔ انہوں نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ وہ اقتدار نہیں، "ضمیر کی سیاست” کے قائل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے اختلافات کے بعد انہوں نے پارٹی پر سخت تنقید کی، خاص طور پر ٹکٹوں کی تقسیم پر۔
بعد ازاں تحریکِ انصاف کی طرف سے انہیں پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن عمران خان سے ذاتی مراسم کے باوجود انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت سے انکار کر دیا۔
ملاقات کے سیاسی اثرات
موجودہ ملاقات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ چوہدری نثار کی (ن) لیگ میں واپسی ممکن ہے۔ ان کی واپسی، خصوصاً پنجاب کی سیاست میں پارٹی کے لیے ایک بڑی سیاسی پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر چوہدری نثار دوبارہ فعال کردار ادا کرتے ہیں تو وہ نہ صرف پارٹی کے اندرونی معاملات میں توازن لا سکتے ہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے لیے ایک مضبوط انتخابی چہرہ بھی بن سکتے ہیں۔
(ن) لیگ کا سنہرا دور اور نثار کا کردار
یاد رہے کہ چوہدری نثار علی خان کو نواز شریف کا قریبی ساتھی اور پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے زیرِ قیادت وزارتِ داخلہ نے کئی اہم فیصلے کیے، اور وہ اکثر پارٹی کے اندرونی فیصلوں پر اثرانداز رہتے تھے۔