صدرِ مملکت آصف علی زرداری چار روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اماراتی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ اس دورے کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس میں سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں پر بات چیت کی جائے گی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صدرِ مملکت کے دورے کے دوران یو اے ای کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین موجودہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی شراکت داری، دفاعی تعاون، سلامتی اور عوامی روابط کے فروغ جیسے اہم امور زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی مفادات سے جڑے معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
صدر آصف علی زرداری ابوظہبی کے زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے صدارتی فلائٹ ٹرمنل پر پہنچے، جہاں متحدہ عرب امارات کے وزیرِ انصاف عبد اللہ بن سلطان بن عواد النعیمی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر خاتونِ اوّل بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی صدرِ مملکت کے ہمراہ تھے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صدرِ مملکت کا یہ دورہ 29 جنوری 2026 تک جاری رہے گا۔ قیام کے دوران وہ اماراتی حکام اور قیادت سے متعدد ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور موجودہ شراکت داری کو نئی جہتوں سے ہمکنار کرنے پر زور دیا جائے گا۔ خاص طور پر اقتصادی شعبے میں سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور تجارت کے مواقع پر گفتگو متوقع ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری آئندہ ماہ قطر کا دورہ کریں گے
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں سیاسی اور سلامتی کی صورتحال خاصی حساس ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان قریبی مشاورت کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دورے سے پاکستان اور یو اے ای کے برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔
صدرِ مملکت کا یہ دورہ اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات مستقبل میں بھی دوطرفہ تعاون کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
