سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ حالات کا تقاضا ہے کہ بحران مزید بڑھنے سے پہلے سیاسی قوتیں آپس میں مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ انتخابی عمل میں شفافیت نہ ہونا اور دھاندلی کے الزامات ہی دراصل سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجوہات بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات پر عوام کا اعتماد مجروح ہو تو اس کے اثرات پورے نظام پر پڑتے ہیں، اس لیے دھاندلی کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کشمکش کا خمیازہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق ملک پہلے ہی سنگین معاشی مسائل کا شکار ہے اور سیاسی عدم استحکام ان مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
سابق سینیٹر نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حالات عام شہری کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سیاسی قیادت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں بیٹھ کر بات کریں، تاکہ ملک کو سیاسی اور معاشی دلدل سے نکالا جا سکے۔
