وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب کے دوران وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ یہ پروگرام حکومت کے عوامی فلاح کے عزم کا عملی مظہر ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے شہریوں کو بلا امتیاز مفت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم نے اس اقدام کو سماجی انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور ایک مہذب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے افراد اپنی دہلیز پر علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے، جبکہ انہیں مہنگے اسپتالوں کے اخراجات برداشت کرنے کی فکر نہیں رہے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں اشرافیہ تو بیرونِ ملک جا کر مہنگا علاج کروا لیتی تھی، لیکن عام پاکستانی کے لیے علاج ایک خواب بن چکا تھا۔ صحت کارڈ پروگرام اس فرق کو ختم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر صحت کی سہولت میسر آ سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس منصوبے میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور نگرانی کا موثر نظام قائم کیا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں صحت کارڈ پروگرام کامیابی سے جاری ہے اور اربوں روپے عوام کی صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سندھ میں اس پروگرام کے اجرا کے حوالے سے بھی غور کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ سے مشاورت کے بعد وہاں کے عوام کو بھی اس سہولت میں شامل کرنے کا حل نکالا جائے گا۔
پنجاب حکومت میں صحت کارڈ سہولت جاری ہے، عظمیٰ بخاری
اس موقع پر صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ 2016 میں شروع ہوا تھا جو اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد افراد صحت کے اخراجات کے باعث خطِ غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں، جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے ذریعے 600 سے زائد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی اس پروگرام سے مستفید ہوں گے اور تقریباً ایک کروڑ افراد کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی بیماریوں کے باعث غربت کا شکار ہوئے، مگر اب کسی کو علاج کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کا صحت کا نظام اب صرف علاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بیماریوں سے بچاؤ پر بھی توجہ دی جائے گی۔ صحت کارڈ پروگرام سے ملک میں مساوی، شفاف اور مؤثر صحت نظام کی بنیاد مضبوط ہوگی اور ہر پاکستانی کو باعزت علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
