وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ویانا میں اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ خصوصی تقریب "پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ” میں دیا، جہاں پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے مابین تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ تقریب میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے زور دیا کہ عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر سماجی و اقتصادی دباؤ ایسے چیلنجز ہیں جو دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی ہی وہ واحد راستہ ہے جو عالمی امن کو یقینی بنا سکتا ہے اور ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عالمی کاربن اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں آج بھی ملک کی یادداشت میں تازہ ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان کی نوجوان آبادی کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ یہ نوجوان ترقی کے مواقع پیدا کرنے اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی قوت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچانے کے لیے مضبوط اور فعال بنانا ہوگا۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ عالمی مسائل کا حل محض عارضی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ مستقل اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔
دریائے چناب پر بھارتی منصوبہ، سندھ طاس معاہدے کی ایک اور سنگین خلاف ورزی
شہباز شریف نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا ہے، جس پر عالمی برادری کو فوری طور پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی جیسے بنیادی وسائل کو انسانی بہبود اور عالمی امن کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ جارحیت اور دباؤ کے اوزار کے طور پر۔
اس تقریب میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مابین کئی اہم معاہدے شامل تھے، جن میں UNIDO پروگرام برائے کنٹری پارٹنرشپ پاکستان 2025 تا 2030، UNODC کنٹری پروگرام پاکستان، اور INMOL اور IAEA کے درمیان تعاون شامل تھے، جس سے بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ ملے گا اور پاکستان کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
