اسلام آباد: وزیراعظم Shehbaz Sharif نے خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے اور ان کے غذائی تحفظ کا خیال رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس حوالے سے لاہور میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں غذائی ذخائر اور برآمدی امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں غذائی ذخائر اور پیداوار پر بریفنگ
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے وزیراعظم کو ملک میں موجود اشیائے خورونوش کے ذخائر اور زرعی پیداوار کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اشیائے خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بنیادی غذائی شے کی کمی کا خدشہ نہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری مصنوعات اور سی فوڈ کی پیداوار اور برآمد کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان شعبوں میں برآمدات بڑھا کر پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں غذائی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
خلیجی ممالک کے لیے برآمدات بڑھانے کی ہدایت
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ملکی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے خورونوش کی طلب اور رسد کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کے باعث خطے میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاکستان کے لیے برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب مسلم ممالک میں تصادم روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں میں مصروف
انہوں نے کہا کہ برادر خلیجی ممالک کو درکار غذائی اشیاء کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس عمل میں اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے۔ وزیراعظم کے مطابق خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
شپنگ اور سفارتی تعاون پر زور
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ Pakistan National Shipping Corporation (پی این ایس سی) خلیجی ممالک تک اشیائے خورونوش کی برآمد کو سہل بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک تعینات پاکستانی سفیروں اور ٹریڈ افسران کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک میں پاکستانی مصنوعات کی طلب بڑھانے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
صورتحال کی نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی جو روزانہ کی بنیاد پر غذائی صورتحال، طلب و رسد اور برآمدی سرگرمیوں کا جائزہ لے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان میں غذائی استحکام برقرار رہے اور ساتھ ہی برآمدات کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
حکام کے مطابق اگر عالمی منڈیوں میں سپلائی چین کے مسائل برقرار رہے تو پاکستان کے لیے خلیجی ممالک سمیت دیگر خطوں میں غذائی مصنوعات کی برآمدات میں مزید اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
