وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کے سفری اخراجات میں ریلیف فراہم کرے گی اور پیٹرول کے اضافے کو مسترد کرتی ہے
موٹرسائیکل سواروں کے لیے سبسڈی کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کے تمام رجسٹرڈ موٹرسائیکل سواروں کو 2200 روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں تقریباً 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، اور ہر رجسٹرڈ موٹرسائیکل کے مالک کو یہ سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ عوام کے سفری اخراجات میں ریلیف مل سکے۔
پیٹرول کی قیمتوں اور وفاقی حکومت پر تنقید
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کو عوام پر بوجھ ڈالنے کے طور پر استعمال کیا، اور صوبائی حکومت اس اقدام کو مسترد کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر فی لیٹر 55 روپے کا اضافہ ایک "ایٹم بم” کے مترادف ہے، جبکہ وفاق اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ
عوامی مفاد اور اخراجات میں بچت
سہیل آفریدی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے نہ صرف موٹرسائیکل سواروں کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا ہے بلکہ بی آر ٹی کے کرایوں میں بھی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود یہ اضافی خرچہ برداشت کرے گی۔
مزید برآں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نئی گاڑیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی گئی ہے اور بین الاقوامی دوروں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے ہیلی کاپٹر کے حادثے کے باوجود نئی خریداری نہیں کی، جبکہ دیگر لوگ اپنے لیے پرائیویٹ جیٹ خرید رہے ہیں۔
عوامی ریلیف پر زور
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ہر موقع پر عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور سبسڈی اور دیگر اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کے مفاد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کا یہ موقف ہے کہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں اور خیبر پختونخوا حکومت اس سلسلے میں پیش پیش ہے۔
