مراکش میں ہونے والی انٹرنیشنل یوتھ کانگریس میں پاکستان کی نوجوان سماجی کارکن اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی مؤثر آواز، علینہ اظہر نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں بھرپور آواز بلند کی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی علینہ اظہر نے اپنے خطاب میں فلسطینی عوام کے انسانی المیے، بچوں کی شہادتوں اور عالمی بے حسی کو اجاگر کرتے ہوئے دنیا بھر کے نوجوانوں کو مشترکہ جدوجہد کی دعوت دی۔
علینہ اظہر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی نوجوان ہیومین رائٹس ایکٹویسٹ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں تاکہ غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ یوتھ کانگریس انٹرنیشنل رباط یونیورسٹی، یوتھ کانگریس مراکش اور وائس فور رائٹس انٹرنیشنل کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں پاکستان، بھارت، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سمیت مختلف خطوں کے نوجوانوں نے شرکت کی۔
علینہ اظہر: نوجوان سماجی خدمت کی نمایاں مثال
علینہ اظہر کم عمری میں نمایاں سماجی خدمات سرانجام دینے، عالمی سطح پر اعزازات جیتنے اور لیڈی ڈیانا ایوارڈ حاصل کرنے والی پاکستان کی چند ممتاز خواتین میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایسے ماحول میں بڑی ہوئیں جہاں معاشرتی عدم استحکام اور تشدد عام تھا، جبکہ 16 سال کی عمر میں والد کے انتقال نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا، مگر اس دکھ کو انہوں نے اپنی طاقت بنایا۔
18 سال کی عمر میں انہوں نے آسرا پاکستان کا قیام کیا، جو بزرگ شہریوں، یتیم بچوں، کچی آبادیوں، ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور دیگر پسے ہوئے طبقات کی فلاح کے لیے سرگرم ہے۔
بعدازاں 22 سال کی عمر میں انہوں نے آسرا ترکی کا آغاز کیا جو استنبول میں شامی مہاجرین کو خوراک، لباس، صفائی سے متعلق اشیا اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتا ہے۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
کانگریس کے دوران علینہ اظہر نے ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک خصوصی پروگرام میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ان کی ملاقات اسکاٹ لینڈ کے سابق فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف، ترکیہ کے نائب وزیرِ خارجہ نو یلماز اور ترک صدر کے خارجہ پالیسی و سیکیورٹی کے مشیر آقِف چاعتائے قلیچ سے ہوئی۔ ملاقات میں غزہ کی جنگ، انسانی بحران اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں پر مفصل گفتگو ہوئی۔
علینہ اظہر نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ محض سیاسی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ انسان اپنے دکھوں سے دوبارہ اٹھ سکتا ہے اور حقیقی تبدیلی حوصلے، یقین اور انسانیت کی بنیاد پر آتی ہے، کسی منصب کی محتاج نہیں۔
یوتھ کانگریس میں ان کی شرکت کو پاکستان کی نوجوان نسل کی شاندار نمائندگی قرار دیا گیا۔
