اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت، جسے سعودی آئل فیسلٹی (SOF) کہا جاتا ہے، کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دے دی ہے۔ یہ سہولت اس وقت پاکستان کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ ملک کو زرمبادلہ کے ذخائر، توانائی کی ضروریات اور جاری بین الاقوامی مالیاتی پروگرام کے تقاضوں کے حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ سعودی آئل فیسلٹی کی مالیت تقریباً 1.2 ارب ڈالر ہے، جس کے تحت پاکستان سعودی عرب سے تیل درآمد کرتا ہے اور اس کی ادائیگی مؤخر بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے یہ درخواست اس مقصد کے تحت دی ہے کہ آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کی مدت مکمل ہونے تک توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کو کم رکھا جا سکے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر فوری بوجھ نہ پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے سعودی عرب کے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے اس سہولت میں دو سالہ توسیع کی درخواست پیش کر دی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ منظوری موصول نہیں ہوئی۔ پاکستانی حکام کو امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور ماضی کے تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے اس درخواست پر مثبت پیش رفت ہوگی۔
سعودی آئل فیسلٹی پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ سہولت ملک کو توانائی کی درآمدات کے لیے قلیل مدت میں نقد ادائیگی کے دباؤ سے بچاتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر اس سہولت میں توسیع ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا بلکہ بجٹ خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ پر بھی دباؤ نسبتاً کم ہو سکے گا۔
دوسری جانب، وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ خزانہ نے اس معاملے پر باضابطہ موقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں وزارتوں سے بارہا رابطہ کیا گیا، تاہم کسی بھی سطح پر اس درخواست کی تفصیلات یا پیش رفت پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی سعودی عرب سے اس نوعیت کی مالی اور توانائی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت کی کوشش ہے کہ دوست ممالک کے تعاون سے معیشت کو استحکام کی راہ پر ڈالا جائے، اور سعودی آئل فیسلٹی میں توسیع اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔
