پاکستان کی معیشت کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر سود سمیت واپس کرنے کے فیصلے کے بعد بیرونی مالیاتی خلا بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قرض کی واپسی اور مالیاتی خلا
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان حکومت اپریل 2026 کے وسط میں متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر واپس کرنے جا رہی ہے، جس پر تقریباً 6 فیصد سود بھی ادا کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے بعد ملک کے بیرونی مالیاتی خلا میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پہلے سے موجود اندازوں کے مطابق مالیاتی خلا تقریباً 46 کروڑ ڈالر تھا، تاہم نئی صورتحال کے بعد یہ بڑھ کر تقریباً 2.46 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ قرض کی واپسی اور اس پر سود کی ادائیگی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور ذخائر کا ہدف
پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت (Extended Fund Facility) پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے میں ہے۔ اس پروگرام کے تحت جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف پہلے 17.8 ارب ڈالر رکھا گیا تھا، جسے بعد میں کم کرکے 17.5 ارب ڈالر کر دیا گیا۔
آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف ماہر بنچی نے اس حوالے سے مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ دنوں میں اس پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے۔
متوقع حکمت عملی اور چیلنجز
حکام کے مطابق حکومت کے پاس دو بنیادی آپشنز ہیں: یا تو وہ اس مالیاتی خلا کو اپنے وسائل سے پورا کرے، یا پھر آئی ایم ایف سے درخواست کرے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کے ہدف میں مزید نرمی دی جائے۔
ایران جنگ سے امریکا کو روزانہ دو ارب ڈالر نقصان، عوامی قرضوں میں اضافہ
اس سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے تقریباً 3.7 ارب ڈالر کے ذخائر کو رول اوور کر دیا جائے گا، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ باقی 1 ارب ڈالر کی ادائیگی جون یا جولائی 2026 میں متوقع ہے، جس سے دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
حکومتی مؤقف اور وضاحت
مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے قرض واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادائیگی صرف مقررہ مدت مکمل ہونے پر کی جا رہی ہے۔
موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی امتحان بن سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی استحکام پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
