دنیا کے 72 ممالک میں 21 ہزار سے زائد پاکستانی شہری جیلوں میں قید ہیں، جن میں زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد اور سزا یافتہ قیدی دونوں شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی وزارت خارجہ کی تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے۔
بیرون ملک 21 ہزار 647 پاکستانی قید
قومی اسمبلی میں رکن طاہرہ اورنگزیب کے سوال پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تحریری جواب میں بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات پیش کیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کی جیلوں میں مجموعی طور پر 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں۔ ان میں 13 ہزار 78 افراد کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جبکہ 8 ہزار 569 افراد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پاکستانی شہری مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار ہیں، جن میں دھوکا دہی، منشیات کی اسمگلنگ، جنسی حملے، جعلی ویزوں اور دستاویزات کا استعمال، قتل اور دیگر جرائم شامل ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ قیدی
وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں۔ ان میں 5 ہزار 445 جدہ جبکہ 5 ہزار 300 ریاض کی جیلوں میں ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں قید پاکستانیوں کی تعداد 5 ہزار 297 بتائی گئی ہے، جو سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک قید پاکستانیوں کی بڑی تعداد خلیجی ممالک میں موجود ہے، جہاں پاکستانی شہری روزگار اور دیگر مقاصد کے لیے بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔
ہزاروں پاکستانی مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہونے کا انکشاف
14 ممالک میں 2 ہزار 100 پاکستانی قید
وزارت خارجہ کی دستاویز کے مطابق تقریباً 2 ہزار 100 پاکستانی ایسے 14 ممالک میں قید ہیں جن کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے موجود نہیں۔
ان ممالک میں بحرین میں 581، قطر میں 599، عمان میں 252، ملائیشیا میں 459، عراق میں 81، تھائی لینڈ میں 35، آسٹریلیا میں 27، کمبوڈیا میں 22، جاپان میں 16، مصر میں 12، اردن میں 8 اور جنوبی کوریا میں 7 پاکستانی قید ہیں۔ فلپائن اور ویتنام میں ایک، ایک پاکستانی شہری کے قید ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
پاکستانی قیدیوں کے لیے قانونی معاونت کی اہمیت
بیرون ملک قید پاکستانی شہریوں کے معاملات میں متعلقہ ملک کے قوانین اور عدالتی طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مقدمات کی نوعیت کے مطابق قانونی نمائندگی، قونصلر معاونت اور اہل خانہ سے رابطہ قیدیوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار بیرون ملک پاکستانی قیدیوں کی مجموعی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ہر مقدمے کے حالات اور قانونی حیثیت مختلف ہو سکتی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں ان قیدیوں کے مقدمات کے انفرادی نتائج یا وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مخصوص قانونی معاونت کی مزید تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
