فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر عطاالرحمان نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران مختلف ممالک سے مجموعی طور پر 2 ہزار 870 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک قوانین کی خلاف ورزی کے باعث پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق سب سے زیادہ پاکستانی شہری سعودی عرب سے واپس بھیجے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں بھیک مانگنے کے الزامات کے تحت 87 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جو ایک تشویشناک رجحان ہے اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عطاالرحمان نے مزید بتایا کہ ورک ویزہ کے غلط استعمال کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان کے مطابق 707 پاکستانی شہری ایسے تھے جنہیں ویزہ شرائط کی خلاف ورزی یا غیر متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث بیرون ملک سے واپس بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ویزہ قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف فرد کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو بھی متاثر کرتی ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 7 خواتین کو بھی مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ اسی طرح منشیات کے مقدمات میں سزائیں مکمل کرنے کے بعد 61 پاکستانی شہریوں کو وطن واپس بھیجا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو قانونی طریقے سے روزگار حاصل کرنے، ویزہ قوانین کی پابندی اور میزبان ممالک کے قوانین کا احترام کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شعور میں اضافے سے ڈی پورٹیشن کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اگر پاکستانی شہری بیرون ملک قوانین کی پاسداری کریں تو نہ صرف ذاتی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔
