اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
احتجاج اور دھرنے کی صورتحال
اپوزیشن رہنماؤں کی قیادت میں دھرنے پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ دارالحکومت کی مصروف ترین شاہراہ دستور کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس سے ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔
تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی اسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا۔
پی ٹی آئی کا مطالبہ
پی ٹی آئی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ذاتی ڈاکٹروں کی غیر موجودگی میں عمران خان کا کوئی طبی علاج شروع نہیں کیا جائے۔ پارٹی کے مطابق، بانی کے طبی معائنے اور علاج کے تمام فیصلے ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی مشاورت سے ہونے چاہئیں۔
حکومت کی میڈیکل ٹیم اور سپریم کورٹ کی ہدایت
دوسری جانب حکومت نے بانی کے طبی معائنے کے لیے ایک میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے، جس میں ڈاکٹر امجد اور پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔ تاہم ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یہ ٹیم اڈیالہ جیل میں موجود نہیں ہو سکی۔
عمران خان کی صحت کے مسئلے کے حل تک دھرنا جاری رکھا جائے گا:علی امین گنڈا پور
میڈیکل بورڈ کی سفارش کے مطابق عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ 16 فروری سے قبل بانی کے طبی معائنے کی مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
صورتحال کا خلاصہ
ابھی صورتحال اس حد تک ہے کہ اپوزیشن اتحاد اور تحریک انصاف کے کارکنان احتجاج میں مصروف ہیں، جبکہ حکومت کی میڈیکل ٹیم اسپتال منتقلی اور رپورٹ کی تیاری میں شامل ہے۔ یہ دھرنا اور قانونی کارروائی مستقبل قریب میں ملک کی سیاسی اور عدالتی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
